Economics (UM) — Class 10 Punjab Board book title page
Class 10 Economics Urdu Medium PCTB • SNC

Economics (UM) — Class 10 Punjab Board book

Official Punjab Curriculum and Textbook Board (PCTB) Economics textbook for Class 10 (Urdu Medium). Neeche poori kitab online parhein ya official PDF download karein — bilkul muft.

Poori kitab yahin parhein

Economics (UM) — Class 10 — neeche scroll karte jayein, aglay safhay khud aa jayein ge. Zoom bhi kar sakte hain.

Internet darkar hai — kitab official PECTAA file se load hogi

Chapter Quiz

Kitab load hote waqt waqt guzarein — Economics (UM) ke asbaaq par 5 sawal!

📚

Kitne chapter yaad hain aap ko?

Is kitab ke baare mein

یہ دسویں جماعت کے لیے معاشیات کا اردو میڈیم نصاب ہے جو دو حصوں میں بٹا ہے۔ حصہ اول بنیادی معاشی تصورات پر ہے: معاشیات کا تعارف، اس کا نفس مضمون، طلب و رسد، توازن اور قیمت کا تعین، منڈی اور پیدائشِ دولت، اور پاکستان کے معاشی مسائل اور ان کا حل۔ حصہ دوم قومی معیشت پر ہے: قومی آمدنی، زر، بینک، تجارت، سرکاری مالیات، معاشی ترقی اور اسلام کا معاشی نظام۔

اس کتاب کی طاقت اس کا پاکستانی تناظر ہے — باب 7 میں پاکستان کے معاشی مسائل (توانائی کی قلت، مارکیٹ کی توسیع) اور باب 14 میں اسلام کے معاشی نظام (حلال و حرام، دولت کی منصفانہ تقسیم) کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ہر باب کے آخر میں معروضی سوالات کے جوابات، فرہنگ اور حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں۔

Aham mozuaat

باب 1: معاشیات کا تعارف

Page 1

باب 2: معاشیات کا نفس مضمون

Page 7

باب 3: طلب

Page 15

باب 4: رسد

Page 23

باب 5: توازن اور قیمت کا تعین

Page 29

باب 6: منڈی اور پیدائش دولت

Page 34

باب 7: پاکستان کے معاشی مسائل اور ان کا حل

Page 42

باب 8: قومی آمدنی کے بنیادی تصورات

Page 55

باب 9: زر

Page 65

باب 10: بینک

Page 77

باب 11: تجارت

Page 86

باب 12: سرکاری مالیات

Page 96

باب 13: معاشی ترقی

Page 103

باب 14: اسلام کا معاشی نظام

Page 114

معروضی سوالات کے جوابات

Page 122

فرہنگ

Page 128

حوالہ جات

Page 130

Ustad ka mashwara

بچو! معاشیات رٹنے کا نہیں سمجھنے کا مضمون ہے۔ ہر تصور کو اپنی زندگی سے جوڑو — جب بازار میں ٹماٹر مہنگے ہوں تو سوچو یہ طلب ہے یا رسد کا مسئلہ؟ جو مثال خود بنائے گا وہی امتحان میں لکھ پائے گا۔ اور باب 14 (اسلام کا معاشی نظام) ضرور تیار کرو، اس سے طویل سوال آتا ہے۔

— Rehman Ahmad Chaudhary, Head Teacher, GPS 117 DB(BJ), Yazman

Aksar pooche gaye sawalat

معاشیات کی تعریف کیا ہے؟

معاشیات یونانی لفظ Oikonomikos سے ہے جس کا مطلب ہے 'گھریلو انتظام'۔ یہ محدود ذرائع سے لامحدود خواہشات کو پورا کرنے کے انسانی رویے کا مطالعہ ہے۔ اس کی دو شاخیں ہیں: جزوی معاشیات (انفرادی اکائیاں) اور کلیاتی معاشیات (پوری معیشت)۔ باب 1، صفحہ 1۔

طلب، رسد اور توازن میں کیا تعلق ہے؟

طلب کسی شے کی وہ مقدار ہے جو خریدار ایک مقررہ قیمت پر خریدنے کو تیار ہو (باب 3، صفحہ 15)۔ رسد وہ مقدار ہے جو فروخت کنندہ اسی قیمت پر بیچنے کو تیار ہو (باب 4، صفحہ 23)۔ جہاں طلب اور رسد برابر ہوں وہاں توازن قائم ہوتا ہے اور قیمت کا تعین ہوتا ہے (باب 5، صفحہ 29)۔

مہنگائی (افراط زر) کیسے پیدا ہوتی ہے؟

باب 9 (زر، صفحہ 65) میں پیسے کا تصور اور باب 10 (بینک، صفحہ 77) میں بینکوں کے کام بیان کیے گئے ہیں۔ افراطِ زر (مہنگائی) اس وقت ہوتی ہے جب پیسے کی مقدار اشیا کی مقدار سے زیادہ بڑھ جائے — باب 9 کی مثال: 100 روپے/10 اشیا = 10 روپے فی شے، 200 روپے/10 اشیا = 20 روپے فی شے۔

اسلام کے معاشی نظام کی بنیادی باتیں کیا ہیں؟

باب 14 (صفحہ 114) میں اسلام کا معاشی نظام بیان کیا گیا ہے: حلال ذرائع سے کمانے کی آزادی، حرام ذرائع (اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، رشوت) کی ممانعت، اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور۔ یہ باب اسلامیات کے تناظر سے بھی اہم ہے۔

Disclaimer

Ye kitab Punjab Curriculum and Textbook Board (PCTB) ki official publication hai. Download aur online reading PECTAA ki official e-books listing (pectaa.edu.pk) se faraham ki jati hai — sirf talimi maqsad ke liye. Malkiyat PCTB ki hai; is site ka koi dawa nahi.